13 اپریل 2015 - 04:56
صدر مملکت: ایرانی قوم اور حکومت نہیں جھکے گی + تصاویر

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ہمارا مقابل فریق آج بخوبی جانتا ہے کہ ایران کی حکومت و ملت نہیں جھکے گی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے حکومت اور پارلیمنٹ کے پانچویں مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ ایٹمی مذاکرات میں دو اہم اقدامات کئے گئے ہیں- انہوں نے کہا کہ پہلا قدم نومبر دو ہزار تیرہ میں جنیوا کا عبوری معاہدہ تھا جس کے بعد ایران نے ایک دن میں اپنا وعدہ پورا کیا اور آئی اے ای اے نے اس کی تائید بھی کر دی اور اسی کے ساتھ بعض پابندیاں بھی ہٹادی گئیں۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ دوسرے قدم سے ان اقدامات کی تکمیل ہوئی- انہوں نے کہا کہ ایسا کہیں نہیں ہوتا ہے کہ ایک سمجھوتے میں ایک فریق اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کرے اور دوسرا فریق کچھ نہ کرے۔ یہ سوچنا کہ امریکہ اور یورپی یونین بڑی طاقتیں ہیں اور جو بھی چاہیں کرسکتی ہیں، صحیح نہیں ہے اور اگر انہوں نے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا تو ان کی عزت و حیثیت خطرے میں پڑ جائے گی- صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ایٹمی مذاکرات کو سخت اور پیچیدہ قرار دیا اور کہا کہ ہمیں دونوں فریقوں کی کامیابی کے بارے میں سوچنا چاہیے کیونکہ ایک کی جیت اور دوسرے کی ہار کے لیے کوشش کرنے سے کسی کو کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو گا- انہوں نے علاقے کی بحرانی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے مسائل تعمیری تعاون سے حل ہو سکتے ہیں- صدر مملکت نے کہا کہ کچھ لوگوں نے علاقے میں جنگ کا کھیل شروع کر رکھا ہے جس سے مسلمہ امہ کو نقصان پہنچ رہا ہے، انہوں نے کہا کہ تعاون سے ان مسائل پر قابو پانا چاہیے اور مظلوموں پر جاری ظلم ختم ہونا چاہیے-
اس اجلاس میں اسپیکر ڈاکٹر لاریجانی نے ایٹمی معاملے کو ایران کے لیے عالمی میدان میں ایک اہم مسئلہ قرار دیا اور ایٹمی مذاکرات کے حتمی نتائج تک پہنجنے کی راہ میں علاقے اور علاقے سے باہر کے کچھ ملکوں کی جانب سے رکاوٹیں ڈالے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے علاقے میں اور عالمی سطح پر جاری مسائل میں آزادی و خود مختاری سے فیصلے کرتا ہے اور بعض حکومتوں کی مخالفت کے باوجود علاقے کی قومیں ایران کی بھرپورحمایت کرتی ہیں- ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ بعض ممالک علاقے اور عالمی سطح پر دھوکے بازی سے کام لے رہے ہیں اور ایران اور اسلامی ملکوں نیز اس کے ہمسایہ ملکوں کے درمیان اختلافات پھیلانا چاہتے ہیں اور جھوٹے دعوے کرتے ہیں کہ ایران کے خلاف عالمی اتفاق رائے حاصل ہو چکا ہے- مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر لاریجانی نے کہا کہ حتمی معاہدے پر دستخط ہونے کےساتھ ہی تمام پابندیاں ختم ہونی چاہیں- انہوں نے اس سلسلے میں امریکی صدر کے بیان کی مذمت کی- انہوں نے ایران کے مشرقی اور مغربی علاقوں میں بحران کھڑے کرنے اور دہشتگردی کے بارے میں اوباما کے بیان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ملکوں کا ایک ہدف و مقصد مسلمان ملکوں کو دہشتگردی جیسے مسائل میں مبتلا کر کے صیہونی حکومت کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے- انہوں نے کہا کہ ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

.......

/169